حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس خبرگان رہبری میں سیستان و بلوچستان کے نمائندہ مولوی عبدالرحمن عارفی نے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں وحدت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اور وحدت کے پیغمبر تھے اور اللہ تعالیٰ اور رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحدت کے مسئلے پر بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔
انہوں نے چالیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جمہوریہ اسلامی ایران عالم اسلام میں وحدت کا علمبردار ہے اور آج ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ چالیسویں وحدت اسلامی کانفرنس منعقد ہورہی ہے جس میں دنیا کے 30 سے زائد ممالک کے مفکرین، علما اور دانشور شریک ہیں تاکہ ایران سے وحدت کا پیغام اپنے اپنے ممالک تک لے جائیں اور اسے اسلامی معاشروں کے لیے ایک نمونے اور تحفے کے طور پر پیش کریں۔
مولوی عبدالرحمن عارفی نے وحدت کو امت مسلمہ کے لیے بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا: خصوصاً آج دنیا کے موجودہ حالات میں جبکہ کفار اور اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کے خلاف متحد ہوچکے ہیں، وحدت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔
انہوں نے خطے کی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطین اور غزہ پر حملہ کیا گیا، لبنان کو جارحیت کا سامنا کرنا پڑا اور اب ایران بھی دشمنی اور جارحیت کی زد میں ہے۔ یہاں تک کہ نام نہاد ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا منصوبہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ دشمنوں کے مقاصد صرف ایک ملک یا ایک خطے تک محدود نہیں ہیں۔
مولوی عارفی نے مزید کہا: مسلمانوں کا ایک پیغمبر، ایک خدا، ایک قبلہ، ایک دین اور ایک قرآن ہے اور انہیں متحد ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کی طاقت اور شان و شوکت ان کے اتحاد میں ہے۔ اگر ہم متحد اور منسجم نہ ہوں تو کفار ہمیں ایک ایک کرکے ختم کردیں گے لیکن اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تو دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اسلامی اتحاد کے مقابلے میں ان کی کوئی طاقت نہیں ہوگی۔
انہوں نے اس حوالے سے امام خمینی (رہ) کے مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت امام خمینی (رہ) نے فرمایا تھا کہ جو شیعہ اہل سنت کے ساتھ اختلاف اور تفرقہ پیدا کرتا ہے وہ ’’امریکی شیعہ‘‘ یا ’’برطانوی شیعہ‘‘ ہے اور جو سنی وحدت کے خلاف بات کرتا ہے وہ بھی ’’امریکی سنی‘‘ ہے۔
مجلس خبرگان رہبری میں سیستان و بلوچستان کے نمائندہ نے مزید کہا: برطانوی شیعہ اور امریکی سنی تفرقہ اور اختلاف پیدا کرکے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے راستے پر گامزن ہیں کیونکہ اگر امت مسلمہ متحد ہوجائے تو مسلمانوں کے مقابلے میں عالمی کفر کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔
مولوی عارفی نے جنگ کے آغاز سے ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں میں جاری اجتماعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران میں شیعہ اور سنی کی کوئی تفریق نہیں، ہم سب مسلمان ہیں۔ نظام اور انقلاب اسلامی سب کا ہے اور شیعہ و سنی دونوں اس میں شریک ہیں۔ تمام میدانوں میں شیعہ اور سنی کا خون ایک دوسرے کے ساتھ بہایا گیا ہے۔ میدان جنگ میں شیعہ اور سنی کا خون ایک دوسرے میں مل چکا ہے اور ملکی سرحدوں پر بھی شیعہ اور سنی نے ایران کے دفاع کے لیے ایک ساتھ اپنا خون دیا ہے۔









آپ کا تبصرہ